29 جون، 2026، 1:38 PM

ایران۔امریکہ معاہدہ ہی لبنان کے حقوق کے حصول کا واحد مؤثر راستہ ہے، لبنانی پارلیمانی اسپیکر

ایران۔امریکہ معاہدہ ہی لبنان کے حقوق کے حصول کا واحد مؤثر راستہ ہے، لبنانی پارلیمانی اسپیکر

لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے صہیونی حکومت کے ساتھ مجوزہ فریم ورک معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل سے الگ مذاکرات صرف قبضے کو طول دیں گے اور داخلی انتشار کو ہوا ملے گی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے کہا ہے کہ لبنان کے حقوق کے حصول اور اسرائیلی افواج کو مکمل انخلا پر مجبور کرنے کا واحد مؤثر راستہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ہے۔

لبنانی اخبار الاخبار کو دیے گئے انٹرویو میں نبیہ بری نے مجوزہ فریم ورک معاہدے کو ڈکٹیشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ 17 مئی 1983 کے معاہدے سے بھی کئی گنا زیادہ نقصان دہ ہے اور اس پر عمل درآمد ممکن نہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس معاہدے کا سب سے بڑا خطرہ اس کے سیاسی نکات نہیں بلکہ وہ داخلی تقسیم اور خانہ جنگی کا خدشہ ہے جس سے لبنان کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے، اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہوگا۔

نبیہ بری نے واضح کیا کہ ان کی جماعت امل موومنٹ کے وزراء حکومت سے مستعفی نہیں ہوں گے، تاہم یہ معاہدہ نافذ نہیں ہوسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات ہی وہ واحد فریم ورک ہیں جو خطے میں ایسا توازن پیدا کر سکتے ہیں جس سے اسرائیل اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل کرنے پر مجبور ہو۔ لبنان کو اس عمل سے الگ کرنا یا امریکی و اسرائیلی شرائط کے تحت اسرائیل سے علیحدہ مذاکرات کرنا صرف اسرائیلی قبضے کو طول دے گا اور اسے زمینی حقائق اپنے حق میں تبدیل کرنے کا مزید موقع فراہم کرے گا۔

نبیہ بری نے ایک اور انٹرویو میں کہا کہ لبنان اب بھی عرب لیگ کے فیصلوں، بین الاقوامی قراردادوں اور 27 نومبر 2024 کے معاہدے کا پابند ہے، جبکہ ایران۔امریکہ معاہدے میں بھی لبنان کا تین مرتبہ واضح ذکر موجود ہے، جسے آئندہ سفارتی عمل کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ان کی اولین ترجیح لبنان کے اندر قومی اتحاد کو مضبوط بنانا اور ہر قسم کی فرقہ واریت، انتشار اور خانہ جنگی کو روکنا ہے۔ یہ معاہدہ لبنانی عوام کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جسے وہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

نبیہ بری نے اس معاہدے کی مخالفت کرنے والی مذہبی اور سیاسی شخصیات و جماعتوں کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد لبنان میں داخلی فتنے کو ہوا دینا اور لبنان و شام کے درمیان کشیدگی پیدا کرکے ایک نئی سنی۔شیعہ جنگ بھڑکانا ہے، لیکن لبنان اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صہیونی منصوبہ صرف لبنان ہی نہیں بلکہ تمام عرب ممالک کے لیے خطرہ ہے۔

News ID 1940058

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha